+92 301 5247927

pakcommodities92@mail.com

logo
  • Jan 14 2026 11:51:08
  • Comments

Guar | گوارہ

پاک کموڈیٹیز اسلام آباد۔ گوار تھل پنجاب کی منڈیوں میں 70/30 کوالٹی 12500 روپیہ کوئنٹل تک بھاؤ ہیں۔ مارکیٹ رکی ہوئی ہے۔ پاک کموڈیٹیز کے زرائع کے مطابق انڈیا میں گوار سیڈ کی سپلائی کی بات کی جائے تو راجستھان، ہریانہ اور گجرات سے آنے والی آمدن کم ہو کر 15,000 بیگز سے نیچے گر گئی ہے، جو اس بات کی نشاندہی ہے کہ اس بار پیداوار کم ہوئی ہے۔ لیکن پچھلے دنوں گوار گم اور گوار سیڈ کی انٹرنیشنل قیمتوں میں گراوٹ دیکھنے میں آئی جس کی مین وجہ امریکہ کی طرف سے 500% ٹیرف (Tariff) لگانے کی دھمکی ہے ان ملکوں کو جو رشیا کے ساتھ تجارت کریں گے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بل پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت روس سے تیل یا دیگر اشیاء خریدنے والے ممالک پر بھاری ٹیکس لگایا جائے گا۔ چونکہ بھارت روس سے خام تیل کا دوسرا بڑا خریدار ہے، اس لیے اس ٹیرف کا براہ راست اثر بھارتی برآمدات پر پڑ سکتا ہے، جس سے بھارتی معیشت اور گوارے کی مانگ یو ایس اے کی طرف سے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ پاک کموڈیٹیز کے زرائع کے مطابق حالیہ مہینوں میں گوارے کی مانگ میں اضافہ امریکہ کے بجائے روس اور جرمنی کی طرف سے دیکھا گیا تھا۔ روس پہلے ماہانہ 1500 ٹن گوارہ خریدتا تھا، لیکن پچھلے تین مہینوں سے یہ اوسط 4,000 ٹن ماہانہ سے اوپر چلی گئی ہے۔ جرمنی نے گوار میل کی خریداری 5,000 ٹن سے بڑھا کر 10,000 ٹن (دگنی) کر دی ہے۔ دوسری جانب بھارت کو ایک اور مسئلے کا سامنا ہے۔ اگر تجارتی تناؤ کی وجہ سے بھارت روس سے تیل خریدنا بند کر دیتا ہے، تو روس بھی گوارے کا بڑا خریدار ہے۔ روس کی جانب سے گوار کی خریداری بھی روکی جا سکتی ہے۔ اس وقت تمام انٹرنیشنل ٹریڈ میں سیاسی تناؤ اور ٹیرف کی جنگ کی وجہ سے نیچے لیول پر ٹینشن پھیلا دی جاتی ہے۔ پہلے یو ایس اے ٹیرف لگاتا ہے بڑی اشیاء کی قیمتیں گر جاتی ہیں پھر ساتھ ہی ٹیرف ہٹا دیتا ہے تو قیمتیں دوبارہ تیز ہو جاتی ہیں۔ بڑی کمپنیاں اس طرح کی خبریں اپنے مفاد کے لیے صحیح استعمال کرتی ہیں۔ جب بھی پینک کی وجہ سے مارکیٹ میں قیمتوں میں گراوٹ آتی ہے وہ اندر خانے مزید خریداری کر لیتی ہیں۔ پاک کموڈیٹیز کے زرائع کے مطابق یو ایس اے انڈیا سے گوارے کا سب سے بڑا خریدار ہے 2.5/3.5 لاکھ ٹن گوارہ خریدتا ہے۔ 30/40 پرسنٹ شئر یو ایس اے کا ہے گوار کی ڈیمانڈ میں لیکن اس بار پیداوار پچھلے سال کی نسبت آدھی ہے۔ 50% تک پیداوار ہی کم ہے۔ اس لیے اگر یو اس سے نکل بھی جاتا ہے پھر بھی قیمتوں میں مندہ نہیں ہے۔ انڈیا گوارے کی قیمتوں میں تیزی ہی نظر آ رہی ہے۔